اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، محمدباقر قالیباف نے منگل کی شام پاکستان کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں ایران اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات کو سراہا۔ انہوں نے جنگ اور مذاکرات کے دوران ایران کا ساتھ دینے پر پاکستانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔
عاصم منیر نے پاکستانی قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون جاری رکھنے پر زور دیا۔ سرحدی آمدورفت کے بارے میں قالیباف کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ مسائل عارضی اور تکنیکی نوعیت کے تھے اور دونوں ممالک کی سرحد آج سے کھول دی گئی ہے۔
اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ انہوں نے امریکی نائب صدر کو واضح طور پر بتایا تھا کہ انقلاب سے پہلے اور بعد میں ایران کے خلاف امریکی اقدامات کی طویل تاریخ نے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔
ان کے مطابق، ٹرمپ حکومت کی جانب سے اسلام آباد مفاہمت کی خلاف ورزی اور مسلسل دھمکیوں نے اس بداعتمادی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
قالیباف نے واضح کیا کہ ایران کا مؤقف نیا نہیں ہے اور امریکا نیویارک میں پیش کی گئی ایران کی سات شرائط پر عمل کیے بغیر تہران کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، لیکن اپنے وطن اور قومی وقار کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی دھمکیاں اور فوجی سرگرمیاں اسلامی جمہوریہ ایران کے تزویراتی فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔
قالیباف نے مزید کہا کہ امریکا نے غلط اندازوں کی بنیاد پر ایران کے خلاف جنگ چھیڑ کر خود کو دلدل میں پھنسا لیا ہے، اور اب اس سے نکلنے کے لیے ضروری اقدامات کرنا بھی امریکا ہی کی ذمہ داری ہے۔
آپ کا تبصرہ